تفصیلی حقائق وپس منظر بابت

قضیہ ادارہ علوم اسلامی، اسلام آباد

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
اس پیچ کے ذریعے ہم ہمارے شیخ حضرت فیض الرحمان عثمانی(رحمہ اللہ تعالیٰ)  اور ادارہ علوم اسلامی، اسلام آباد کے تفصیلی احوال قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتے ہیں۔ پچھلے کچھ عرصے سے ان کے ادارے کے ساتھ در پیش افسوس ناک قضیہ کا ادراک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مولاناؒ کے کام کی اہمیت، ان کا منہج، ان کی اس ادارے کے حوالے سے وصیتیں سامنے ہوں۔ ہوسکتا ہے کہ قارئین طوال کی وجہ سے زحمت محسوس فرمائیں، لیکن شیخ اور ان کے اس ادارے کے ساتھ اگر آپ کی نسبت یا لگاؤ ہے تو کچھ وقت نکال کر ضرور پڑھیے گا۔ ان شاء اللہ یقینا آپکو اسکا فائدہ ہوگا۔

ادارہ علوم اسلامی، اسلام آباد کا قیام

  • سن 1986ءمیں حضرت مولانا فیض الرحمٰن عثمانی رحمہ اللہ نے ادارہ علوم اسلامی، اسلام آبادکی بنیاد سیکٹر G8،  اسلام آباد میں ایک کرایہ کی عمارت میں رکھی۔
  • فروری 1994ء میں ادارہ علوم اسلامی، اسلام آباد کے نام پر تقریبا ۷۴ کنال زمین خریدی گئی جس کی ادائیگی ادارے کے بینک اکاونٹ سے ہوئی۔(بیع نامہ اور زمین کا ’ فرد‘ ذیل میں  لف ہیں)
ادارے کی زمین کا بیع نامہ
ادارے کی زمین کا فرد
  • مولانا رحمہ اللہ نےادارے کا انتظام و انصرام چلانے کے لیے ادارے کا ایک مفصل دستور مرتب فرمایا جس میں اغراض و مقاصد، مختلف دستوری عہدے، ان کی ذمہ داریاں اور اختیارات اور ان کے انتخاب و معزولی کا واضح طریقہ کار درج ہے۔ یہ دستور حضرت مولانا ؒنے 2003ء میں حکومت کے ساتھ رجسٹر کروایا۔ اسی دستور کی روشنی میں ایک مجلسِ منتظمہ قائم کی، جو آج تک ادارے کا اعلیٰ ترین انتظامی فورم ہے۔ وہ خود بانی ہونے کے باوجود برسوں اس مجلس کے فیصلوں کے پابند رہے۔(دستور کی کاپی درج ذیل ہے)

بانی اِدارہ حضرت مولانا فیض الرحمن عثمانی رحمہ اللہ کی وصیتیں

مولانا رحمہ اللہ نے اپنے انتقال سے پہلے مندرجہ ذیل وصیتیں تحریری اور صوتی شکل میں کیں:

  • 2017ء میں ایک ٹائپ شدہ تحریری دستاویز میں وصیت کی کہ ان کے جنازے سے قبل مجلسِ منتظمہ کااجلاس بلایا جائے اور اگلا صدر ادارہ دستور کے مطابق منتخب کیا جائے۔ (وصیت نامہ ذیل میں لف ہے)
مولانا فیض الرحمٰن عثمانی رحمہ اللہ تعالیٰ کا ادارے سے متعلق تحریری وصیت نامہ
  • دسمبر 2020ء میں واٹس ایپ پر ایک صوتی پیغام میں تاکید فرمائی کہ ادارے کی قیادت محض میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر منتخب کی جائے۔(صوتی وصیت نامہ ذیل میں لف ہے)

  • 13 اگست 2021ء کو اپنی وفات سے چند روز قبل انتہائی علالت کے باوجود اپنی نحیف آواز میں ایک صوتی پیغام جناب مولانا سبقت منصور صاحب کو ارسال کیا، جس میں ادارے کی ذمہ داری جناب مولانا عبداللہ محمد اقبال صاحب اور مولانا سبقت منصور صاحب کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔ (صوتی پیغام سننے کے لیے درج ذیل دی گئی آڈیو فائل پر کلک کریں۔ ابتداء میں 24 سیکنڈز تک وینٹیلیٹر کی آواز ہے)

  • 14اگست 2021ءکوہسپتال میں داخل ہونے کے بعد مرض الوفات میں اپنے دستِ مبارک سے تحریر فرمایا کہ ادارے کی ذمہ داری جناب عبداللہ محمد اقبال اور جناب سبقت منصور کے سپرد کی جائے۔(تحریرذیل میں لف ہے)

مرض الوفات میں ہسپتال سے مولاناؒ نے اپنے دستِ مبارک سے لکھا
  •  مولانا رحمہ اللہ نے اپنے صاحبزادے مولاناعثمان عثمانی کے توسط سے بھی ایک صوتی پیغام بھجوایا، جس میں ادارے کی ذمہ داری عبداللہ محمد اقبال اور سبقت منصور کے سپرد کرنے کی بات کو دہرایا گیا۔(صوتی پیغام سننے کے لیے ذیل میں آڈیو فائل پر کلک کریں)

بانیِ ادارہ مولانا فیض الرحمٰن عثمانی رحمہ اللہ کی وفات اورانکے وصایا پر عمل

مولانا عثمانی رحمہ اللہ 24اگست 2021ء کو کچھ عرصے کی شدید علالت کے بعدوفات پائے۔ اسی دن انکی مذکورہ بالا وصیتوں اور ادارے کے دستور کے مطابق مجلس منتظمہ نے نئے صدر کے  انتخاب کے لیے اجلاس بلوایا اور اتفاق رائے سے مولانا عبداللہ محمد اقبال کو ادارے کا صدر منتخب کیا گیا۔ (مجلس منتظمہ کے اجلاس کی کاروائی ذیل میں لف ہے)

مولانا رحمہ اللہ کے بعض ورثاء کی طرف سے پیدا کردہ حالات

۱) ادارے کی وقف زمین کو وراثتی زمین قرار دینے کی مذموم کوشش:
باوجود اس کے کہ حضرت مولانا رحمہ اللہ نے ادارے کے نظم و نسق، شفافیت اور بقاء کے لیے مضبوط دستور، واضح وصیتیں اور عملی نظام چھوڑا تھا، حضرت مولانا رحمہ اللہ کے بعض صاحبزادگان اور خاندان کے بعض افراد نے ایسے رویے اختیار کیے جو نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ ہیں۔(اس سلسلے میں مولانا رحمہ اللہ کی وصیت درج ذیل ہے)

مولانا صاحب ؒکی وفات کے چند ماہ بعد مولاناؒ  کی ایک بیٹی سلمیٰ فیض نےاپنی والدہ اور بہنوں کی طرف سے ایک عدالتی کیس دائر کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ مولانا صاحب ؒ کی دیگر وراثتی زمینوں کے ساتھ ادارے کی 74 کنال زمین کو ورثاء میں تقسیم کیا جائے۔ اس عدالتی کیس میں مدعیہ ایک بہن سلمیٰ فیض تھی اور باقی تمام ورثاء مدعیٰ علیہ تھے۔ (دعوے کی کاپی درج ذیل ہے)

ادارہ اس کیس میں فریق نہیں تھا جسکی وجہ سے ادارہ اس کیس سے نابلد رہا اور نہ ہی ادارہ اپنا مؤقف کورٹ میں پیش کر سکا۔ کچھ عرصہ کیس چلنے کے بعد فریقین نے ادارے کی زمین سے متعلق عدالت میں صلح کر لی اور ایک راضی نامہ عدالت میں پیش کیا۔(فریقین کا راضی نامہ ذیل میں لف ہے)

خاندانی وراثتی کیس میں ادارے کی زمین سے متعلق فریقین کا راضی نامہ

عدالت نے صلح نامہ کے الفاظ کو اپنے فیصلہ کا حصہ بنایا اورفیصلے میں یہ لکھا کہ مولانا صاحب رحمہ اللہ کے وارثین میں دیگر جائیداد کو شریعت کے مطابق تقسیم کیا جائے اور ادارے والی زمین کے بارے میں لکھا گیا کہ’’ اگرچہ عدالت کےسامنے ایساکوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا کہ آیا یہ زمین مولانا ؒ کی میراث ہے یا ٹرسٹ کی ملکیت ہے،یہ زمین (راضی نامے کے مطابق) اپنی حالت پر رہے گی۔ تاہم اگر  ورثا میں سے کسی ایک کے زیر تصرف ہوئی تو باقی تمام ورثاء کو اس زمین کا حصہ شریعت کے مطابق ملے گا۔‘‘ (فیصلے کا متعلقہ حصہ ذیل میں لف ہے)

وراثتی کیس کا ادارے کی زمین سے متعلق فیصلےکا حصہ

2) اجرائے ڈگری کی درخواست: اس عدالتی فیصلے کےچند ماہ بعدسلمیٰ فیض نے عدالت میں اجرائے ڈگری کی درخواست دی اوریہ استدعاء کی کہ’’ڈگری داران کی وارثان کو حلقہ پٹواری واقع موضع بارہ کہو، اسلام آباد بمطابق حکم مورخہ 27-09-2023پر عمل درآمد کر کے وراثت درج کئے جانے کا حکم صادر فرمایا جائے۔‘‘ (عدالت میں جمع کی گئی درخواست کامتعلقہ حصہ نیچے لف ہے)

عدالت میں جمع کی گئی اجرائے ڈگری کی درخواست

 ادارے کی انتظامیہ کے علم میں آنے کے بعد ادارے نے عدالت میں اس کیس کا فریق بننے کی درخواست دائر کی تاکہ ادارہ اپنی زمین سے متعلق مؤقف پیش کرے لیکن جب انکو یہ بات پتہ چلی تو انہوں نے اجرئے ڈگری کی درخواست واپس لے لی۔

3) اجرائے ڈگری کا نیا مقدمہ: سلمیٰ فیض کی طرف سے اجرائے ڈگری کی درخواست واپس لینے کے بعد جولائی 2024ء میں مولانا فیض الرحمٰن رحمہ اللہ کی ایک اہلیہ نے عدالت نیا دعویٰ دائر کیاجس میں ادارے کی انتظامیہ، حلقہ پٹواری،تحصیل دار اور اس ایچ اور کو مدعیٰ علیہ بنایا اوراپنی بیٹی سلمیٰ فیض کے مذکورہ بالا وراثتی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے یہ استدعاء کی کہ تحصیل دار اور حلقہ پٹواری کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ اس زمین کو ورثاء کے نام کرکے نیا فرد جاری کریں۔(دعوے کی کاپی ذیل میں لف ہے)

4) وراثتی کیس کا فیصلہ معطل کرنے کی درخواست: ادارے کی انتظامیہ نے سال 2024ء میں مذکورہ بالا وراثتی کیس کے فیصلے کے خلاف مقدمہ دائر کیا جس میں ادارے نے اپنی زمین سے متعلق حقائق پیش کیے۔ اس کیس کی پہلی ہی سماعت میں وراثتی کیس کا فیصلہ سنانے والے ہی جج نے اپنےفیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔( فیصلہ ذیل میں لف ہے)

5) امتحانات کے پرچوں کا بددیانتی : ادارے کے ایک عبید اللہ نامی ملازم نےادارے کے شعبہ امتحانات سے پرچے چرا کر ایک کلاس تک پہنچائے۔ (یہ عبید اللہ مولانا  صاحبؒ کے قریبی ساتھی عبد الواحدؒ کا بیٹا اور مولانا ؒ کی بڑی اہلیہ کی بہن کا بیٹا ہے۔)  غیر جانبدارانہ تحقیقات کے بعد عبید اللہ کو ادارے کی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ (کیس کی مکمل کاروائی لف ہے)

6) ادارے پر زبردستی قبضے کی کوشش: عبید اللہ نامی برخاست شدہ ملازم کے واقعے کو بہانہ بنا کر۱۹رمضان المبارک۱۴۴۵ھ بمطابق29مارچ 2024ء کو خاندان کی بعض خواتین کو ادارے کے اندر لا کر بٹھا دیا گیا، تاکہ ادارے کا انتظام زبردستی اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔ حضرت مولانا کی بڑی اہلیہ( جو ضعیف اور بیمار ہیں) کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہےاوراولاد کی طرف سے ادارے میں اعلیٰ عہدے — جیسے صدر، نائب صدر، ناظم، ناظم مالیات —کے مطالبات کیے گئے ہیں، جو نہ دستور کے مطابق ہے، نہ حضرت مولانا رحمہ اللہ کی وصیت کے مطابق اور نہ ہی ان میں اہلیت اور قابلیت ہے۔

7) چیریٹی کمیشن میں غیر قانونی فیملی ٹرسٹ کی رجسٹریشن: چیریٹی کمیشن میں درخواست دائر کردی گئی کہ ادارہ ایک فیملی ٹرسٹ ہےاور اب والد کی وفات کے بعد یہ بچوں کے نام کیا جائے، جس کے نتیجے میں ادارے کا بینک اکاونٹ منجمد کر دیا گیا۔

8) ادارے کے اثاثہ جات پر ناجائز قبضے کی کوشش: ادارے کی ایک گاڑی غیر قانونی طریقے سے ایک صاحبزادے نے اپنے نام کروا لی، دوسری گاڑی پر بھی ملکیتی دعوے کا کیس کیاگیا۔

9) پاور کے سسٹم پر پلیٹ فارم: حکومت کے طاقتور کرام کا ایک وفد جس میں انتظامیہ آپ کے پاس موجود تھے، ان میں خواتین کے پاس موجود تھے اور ان کے پاس موجود لوگوں کو سمجھایا کہ صرف پنجاب یونیورسٹی کے دفتر کے لیے آفسز تک ہیں۔ لیکن وہاں ایک خاتون نے سیکیورٹی پر سیدھا فائر کیاجس سے کئی نقصانات پہنچ گئے (فائرنگ کی ویڈیو نیچے موجود ہے)

10) ادارے کے طلبہ کو زخمی کرنا: ادارے کے سال 2025ء کی دورہ حدیث کے چند طلبہ پر کچھ اوباش نوجوانوں کے ذریعے حملہ کرایا گیا جس میں ان طلبہ کو چھریوں سے مار کر زخمی کیا گیا۔

11) مولاناؒ کی دیگر اولاد:مولانا صاحبؒ کے ورثاء اور انکے خاندان کی اکثریت اس طرز عمل کی مخالف ہے۔مولانا ؒ کی اولاد میں سے واحد فارغ التحصیل عالم مولانا عثمان عثمانی صاحب نے اپنے بھائیوں کے ساتھ آکر انتظامیہ کے ساتھ غیر مشروط صلح کرلی اور اس وقت مولاناعثمان عثمانی صاحب ادارے میں تدریس کررہے ہیں جبکہ ان کے بھائی سعود عثمانی ادارہ کی زیر انتظام مسجد میں امام ہیں اور باقاعدہ ادارہ کے ملازم ہیں۔ابھی حال ہی میں مولانا فیض الرحمٰن عثمانی (رحمہ اللہ) کےسب سے بڑے بیٹےسیف الرحمٰن بن فیض الرحمٰن نے بھی ادارے کے ساتھ غیر مشروط صلح کر لی ہے۔ (صلح نامہ لف ہے)

 

صلح نامہ مابین سیف الرحمٰن عثمانی و ادارہ علوم اسلامی

ادارہ اس وقت بھی مولانا رحمہ اللہ کے بیٹے سیف اللہ عثمانی (جو اس قضیے میں ادارے کے خلاف ہیں)کو اپنے سابقہ عہدے پر تمام مراعات کے ساتھ بحال کرنے کو تیارہے۔

جعلی مجلس منتظمہ کا قیام اور اسکا اجلاس

جولائی 2025ء میں ادارے کے مجلس منتظمہ کے سابقہ دو اراکین، مولانا اقبال اللہ صاحب اورمولانا عبد الغفور صاحب نےاسلام آباد میں ادارے سے باہر ایک جعلی اجلاس بلوا کر چند نئے لوگوں کو مجلس منتظمہ میں شامل کرکے سیف اللہ عثمانی کو ادارے کا صدر اور عبیداللہ کو ادارے کا ناظم عمومی بنایا۔ان نئے لوگوں میں مولانا صاحب رحمہ اللہ کاصرف ایک بیٹا سیف اللہ عثمانی اور ایک پوتا عبدالرحمٰن بن سیف اللہ عثمانی شامل ہیں۔ انکی اولاد کا باقی کوئی فرد اس میں شامل نہیں۔(مذکورہ جعلی اجلاس کی کاروائی ذیل میں لف ہے)

مذکورہ  بالادونوں سابقہ اراکین مجلس منتظمہ کراچی میں مقیم ہیں اور مولانا صاحب ؒ نے ان حضرات کو اپنی حیات ہی میں 18مارچ 2020نکالا تھا۔(اجلاس کی کاروائی کا متعلقہ حصہ لف ہے)ء کومجلس منتظمہ کے ایک اجلاس میں دوتہائی اکثریت سے

مصالحتی کوششیں

گزشتہ دو سال کے دوران متعدد مصالحتی کوششیں ہوئیں جن میں ادارے کی اساتذہ، مقامی علماء ومقامی شخصیات نے کردار ادا کیا لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔ گزشتہ کچھ عرصے سے سعودی سفارت خانہ بھی اس قضیے کو حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا۔

جرگے کا قیام اور اس کے نتائج

حالیہ قضیے کو حل کرنے کے لیےجولائی 2025ءایک جرگہ تشکیل دیا گیا۔جس میں سیف اللہ عثمانی وغیرہ نے علاقے کے ایک مقامی شخص،راجہ مہران کو اپنی طرف سے حکم بنایا اور ادارہ علوم اسلامی نے اپنی طرف سے محمد تزارت عباسی المعروف مولانا صفی اللہ صاحب(مہتمم مدرسہ عربیہ ریاض الجنۃ،بارہ کہو،اسلام آباد)کو ایک ماہ کی مدت کے لیےاپنا حکم مقرر کیا۔

جرگہ کے اراکین نے تقریبا ایک مہینہ مصالحت کے لیے بہت ساری مجالس منعقد کیں لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے ۔اس جرگے کی آخری مجلس میں  انکے حکم راجہ مہران کی طرف سےجن شخصیات کو نامزد کیا گیا وہ درج ذیل ہیں:

۱۔ قاری سیف اللہ سیفی صاحب۔(مری)

۲۔ مفتی نادر صاحب۔ (لورہ)

۳۔ ایس ایچ او، تھانہ بارہ کہو۔

۴۔ سابق جج جناب خرم صاحب۔ (پھلگراں)

ان حضرات کو باقاعدہ مدعو کرنے کے بارے میں ہمیں بتایا گیا لیکن مجلس میں درج بالا شخصیات میں سے صرف ایک شخص جناب خرم صاحب تشریف لائے جبکہ باقی تین افراد کو بلایا ہی نہیں گیا۔ اسکے علاوہ اس مجلس میں تقریبا 20سے 25 ایسے غیر متعلقہ افراد تھےجنکوابھی تک  بھی اس قضیے کے بارے مکمل معلومات نہیں ہیں۔اتنے زیادہ افراد کے ہونے کی وجہ سے سمجھنے سمجھانے کے ماحول سے زیادہ شور شرابے کا ماحول تھا۔ اسی طرح اس مجلس کا مقام پہلے’’ لیوش شادی ہال، بارہ کہو‘‘ مقرر کیا گیا لیکن بعد میں اچانک اس کو تبدیل کیا گیا۔بہرحال یہ مجلس بغیر کسی نتیجے کے اختتام پذیر ہوئی۔

3 اگست 2025ءکو انکے حکم راجہ مہران صاحب نے یک طرفہ طور پر اپنی تجاویز کو فیصلے کی شکل دے دی اور اس پر علاقے کے ایسے لوگوں کے دستخط بھی کروائے گئےجنکا اس قضیے سے نہ کوئی تعلق تھا اور نہ اس کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔مزید برآں یہ کہ چند ایسے لوگوں کے دستخط بھی کرائے گئے جو اس مجلس میں شریک ہی نہیں تھے۔ان  میں ایک شیعہ بھی شامل ہے۔ (یک طرفہ فیصلہ لف ہے)

جبکہ ہمارے حکم مولانا صفی اللہ صاحب نے اپنی آراء کو صرف تجاویز کی شکل میں مرتب کر کے لکھا۔(ذیل میں لف ہے)

حالیہ صورتحال اور ادارے پر افسوسناک حملہ

مورخہ 8 فروری 2026ء کی درمیانی شب  ادارہ علوم اسلامی، اسلام آبادمیں وہ واقعہ پیش آیا جس کا کسی بھی تعلیمی ادارے میں تصور نہیں کیا جا سکتا۔  ہوا یوں کہ ادارے میں محدود حفاظتی اقدامات کو دیکھ کر عثمانی خاندان کے چند افراد نے 20 سے 25مسلح لوگوں کا گروہ لیکر رات سوا ایک سے ڈیڑھ بجے کے قریب ہتھیاروں سمیت (جن میں پستول، کرنٹ والے راڈ،لوہے کے راڈ، زہریلی سپرے، ڈنڈےاور واکی ٹاکی شامل ہیں)  ادارے پر دھاوا بول دیا۔ ادارے کے گیٹ پر موجودچوکیداروں کو یرغمال بنا کرباہر نکالا اور گیٹ پر قبضہ کرنے کے بعد سی سی ٹی وی کیمرے توڑے،DVR نکال لیا، دفاتر کے شیشے توڑےاور ادارے کی املاک کو نقصان پہنچایا۔موقع پر موجود  دو اساتذہ کرام (مولانا اواب صاحب اور مولانا نبیل صاحب) پر تشدد کیا اور انکو بندوق کے زور زبردستی ادارے سے باہر نکال دیا۔  طلبہ کے ہاسٹل میں آ کر انہیں ڈرایا دھمکایا۔

رات 2 سے لیکر صبح 6 تک انہوں نے ادارے پر  مکمل طور پر قبضہ کر لیا۔  طلبہ اور انکے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں مگر انکے پاس ہتھیار تھے سو انتظامی طور پر ادارہ انکے کنٹرول میں آگیا تھا۔ صورت حال دیکھ کر طلبہ اور انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی مگر انکی طرف سے بھی تعاون نہیں کیا گیا، پولیس آئی ضرور مگرباہر رہی اور ادارے کے اندر آنے سے کتراتی رہی حالانکہ اس وقت ادارے میں طلبہ اور موجودہ انتظامیہ یرغمالی کیفیت میں تھے۔

صبح فجر کی نماز کے وقت صدر ِادارہ مولانا عبداللہ محمد اقبال صاحب اور مولانا ابرار صاحب گاڈز سمیت ادارے میں پیچھے کے راستے سے داخل ہوئے۔  وہ مسجد میں آئے اور انہوں نے طلبہ سے بات چیت کی۔چونکہ مشتعل افراد کا عمل اس قدر غیر قانونی و غیر اخلاقی تھا کہ رد عمل دیے  بغیر چارہ نہیں تھا۔ سو صدرِ ادارہ نے طلبہ کے تحفظ اور ادارے کی بقا کے لئے شر پسند افراد کو پتھر مارنے اور انہیں ادارے سے باہر نکلنے پر مجبور کرنے کا حکم دیا۔مشتعل افراد کو طلبہ نے دور سے پتھر پھینکے  کیونکہ انکےپاس اسلحہ، ڈنڈے اور کرنٹ والے راڈ تھے۔طلبہ قریب نہیں جا سکتے تھے، اس لئے ضروری تھا کہ انہیں دور سے پتھر پھینک کر ادارے سے نکلنے پر مجبور کیا جائے۔ تقریبا آدھےگھنٹے کے بعد مشتعل افراد بے بس ہوگئے تو انتظامیہ نے انہیں باہر نکلنے پر مجبور کیا اور  ان سب کو خواتین سمیت ادارے سے باہر نکال دیا گیا۔ اس موقع پر گزشتہ تقریبا دو سال سے ادارے کے دفاتر پر سے خاندان کی چند خواتین  کا قبضہ بھی چھڑایا گیا۔

دارہ کسی طور اس  واقعے کا متحمل نہیں تھا۔ یہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد نہ صرف ادارے پر زبردستی قبضہ کرنا تھا بلکہ طلبہ  کے سالانہ امتحانات متاثر کر کے ان کا تعلیمی مستقبل بھی تاریک کرنا تھا۔اس واقعے کے بعد علماء کرام اور مقامی شخصیات ادارے میں تشریف لائے اور اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے انتطامیہ کے ساتھ یکجہتی بھی کی۔

دعا گو ہیں کہ ایسی صورتحال کبھی کسی تعلیمی ادارے میں پیش نہ آئے اور ادارہ علوم اسلامی اسلام آباد بھی ان تمام مصیبتوں اور آزمائشوں سے محفوظ رہ کر اپنا تعلیمی سفر جاری و ساری رکھے۔ (آمین)

مذکورہ بالا افسوسناک واقعے کی کچھ جھلکیاں